کیا کسی قادیانی کو قتل کرنا جائز ہے۔ توحیدرسالت واقعی کی اصل وجہ کیا تھی جانیے۔
اسلام علیکم! 31 جولائی 2020 کو پشاور میں طاہر نامی شخص کو خالد نے کمرہ عدالت میں گولی مار دی کیونکہ طاہر پر کیس تھا کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔اور اس کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ شریعت کے مطابق ایسے شخص کو فورا عدالتی حکم پر سولی پر لٹکا دینا چاہیے لیکن 2018 سے یہ کیس دوسرے کیسز کی طرح ابھی تک التوا کا شکار تھا۔اس بار خالد نامی عاشق رسول نے عدالت میں ہی اسے گولی مار دی۔ شریعت کے مطابق یہ قتل کے زمرے میں آتا ہے۔ ایمل ولی اور مفتی طارق مسعود نے بڑے اچھے انداز سے تشریح کی ہے کہ طاہر کو عدالت کی طرف سے سزا ملنی چاہیے تھی اس بنا پر خالد قاتل کے زمرے میں آتا ہے۔ آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں،ہمیں ضرور آگاہ کریں۔ شکریہ